🇵🇰

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے by Jaun Elia — Analysis & Translation

Original Poem

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھا آنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے اس کی یاد کی باد صبا میں اور تو کیا ہوتا ہوگا یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے میرا سانس اکھڑتے ہی سب بین کریں گے روئیں گے یعنی میرے بعد بھی یعنی سانس لیے جاتے ہوں گے

Translation (Punjabi)

وہ کتنے مزے سے رہتے ہوں گے، کتنے فخر کرتے ہوں گے پتہ نہیں کیسے لوگ ہوں گے جو اسے پسند آتے ہوں گے شام کو خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں میری بجھتی ہوئی حالت دیکھنے آ جاتے ہوں گے وہ جو نہیں آنے والا ہے، اس سے میرا کوئی مطلب نہیں تھا آنے والوں سے کیا مطلب، وہ آتے ہیں، آتے ہوں گے اس کی یاد کی ہوا میں اور کیا ہوتا ہوگا اسی طرح میرے بال بکھرے ہیں اور بکھر جاتے ہوں گے دوستو، کچھ تو بات کرو اس کی قیامت بانہوں کی جو ان میں سمٹتے ہوں گے، وہ تو مر جاتے ہوں گے میرا سانس اکھڑتے ہی سب بین کریں گے، روئیں گے یعنی میرے بعد بھی، یعنی سانس لیتے رہیں گے

About the Poet

Jaun Elia (20th century)

جون ایلیا ایک مشہور اردو شاعر، فلسفی، اور دانشور تھے۔ ان کی شاعری میں محبت، تنہائی، اور فلسفے کی گہرائی ملتی ہے۔ وہ 1931 میں پیدا ہوئے اور 2002 میں وفات پا گئے۔

Historical Context

Literary Form
ghazal
When Written
20th century
Background
This ghazal reflects Jaun Elia's characteristic themes of existential contemplation, love, and the transient nature of life. His poetry often delves into personal and philosophical musings.

Sources: https://www.rekhta.org/ghazals/kitne-aish-se-rahte-honge-kitne-itraate-honge-jaun-eliya-ghazals?lang=Ur, https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_poetry

Detailed Explanation

جون ایلیا کی یہ غزل انسانی جذبات، محبت، اور زندگی کی عارضی نوعیت پر غور کرتی ہے۔ پہلے شعر میں شاعر ان لوگوں کے بارے میں سوچتا ہے جو اس کی محبوبہ کو پسند آتے ہیں اور ان کی خوشیوں کا ذکر کرتا ہے۔ دوسرے شعر میں وہ شام کے وقت کی تنہائی اور اپنی بجھتی ہوئی حالت کا ذکر کرتا ہے۔ تیسرے شعر میں وہ ان لوگوں کی بے نیازی کا ذکر کرتا ہے جو اس کی زندگی میں آتے ہیں اور جاتے ہیں۔ چوتھے شعر میں وہ اپنی محبوبہ کی یاد کی ہوا کا ذکر کرتا ہے جو اس کے بالوں کو بکھیر دیتی ہے۔ پانچویں شعر میں وہ محبوبہ کی بانہوں کی طاقت کا ذکر کرتا ہے جس میں سمٹنے والے مر جاتے ہیں۔ آخری شعر میں وہ اپنی موت کے بعد لوگوں کے رونے کا ذکر کرتا ہے، جو اس کے جانے کے بعد بھی سانس لیتے رہیں گے۔

Themes

  • Existential contemplation
  • Love
  • Transience of life

Literary Devices

  • Metaphor: Use of 'باد صبا' to symbolize memories.
  • Imagery: Vivid description of emotions and states of being.
  • Repetition: Repeated use of 'آتے ہیں' to emphasize inevitability.
  • Personification: Giving life to abstract concepts like memories and emotions.

Word Dictionary

Word Meaning Translation Transliteration
کتنے کئی بہت سارے kitne
عیش خوشی آرام و سکون aish
سے سے سے se
رہتے زندگی گزارتے رہائش پذیر ہوتے rahte
ہوں ہوں ہوں hoon
گے ہوں گے ہوں گے ge
اتراتے فخر کرتے غرور کرتے itraate
جانے پتہ نہیں معلوم نہیں jaane
کیسے کس طرح کس طرح kaise
لوگ افراد انسان log
وہ وہ وہ woh
جو جو جو jo
اس اس اس is
کو کو کو ko
بھاتے پسند آتے دل کو بھاتے bhaate
شام شام شام shaam
ہوئے ہوئے ہوئے hue
خوش خوش خوش khush
باش خوش مزاج خوش دل baash
یہاں یہاں یہاں yahan
کے کے کے ke
میرے میرا میرا mere
پاس قریب نزدیک paas
آ آتے آتے aa
جاتے جاتے جاتے jaate
ہیں ہیں ہیں hain
بجھنے مدھم ہونے ختم ہونے bujhne
کا کا کا ka
نظارہ دیکھنا مشاہدہ nazaara
کرنے کرنے کرنے karne
نہ نہیں نہیں na
آنے آنے آنے aane
والا آنے والا آنے والا wala
ہے ہے ہے hai
نا نہیں نہیں na
مجھ مجھے مجھے mujh
مطلب مقصد مقصد matlab
تھا تھا تھا tha
والوں آنے والے آنے والے walon
کیا کیا کیا kya
آتے آتے آتے aate
کی کی کی ki
یاد یاد یاد yaad
باد ہوا ہوا baad
صبا صبح کی ہوا صبح کی ہوا saba
میں میں میں mein
اور اور اور aur
تو تو تو to
ہوتا ہوتا ہوتا hota
ہوگا ہوگا ہوگا hoga
یوں اسی طرح اسی طرح yoon
ہی ہی ہی hi
بال بال بال baal
بکھرے پھیل گئے پھیل گئے bikhre
بکھر پھیل پھیل bikhar
یارو دوستو دوستو yaaro
کچھ کچھ کچھ kuch
ذکر بات بات zikr
کرو کرو کرو karo
تم تم تم tum
قیامت بہت خوبصورت بہت خوبصورت qayamat
بانہوں بازو بازو baanhon
سمٹتے گھیرتے گھیرتے simatte
ان ان ان un
مر ختم ختم mar
میرا میرا میرا mera
سانس سانس سانس saans
اکھڑتے ختم ہوتے ختم ہوتے akhadte
سب سب سب sab
بین رونا رونا bain
کریں کریں کریں karein
روئیں روئیں روئیں roein
یعنی یعنی یعنی yaani
بعد بعد بعد baad
بھی بھی بھی bhi
لیے لیے لیے liye

Want to analyze your own poem?

Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.

Try Poetry Explainer — Free