🇵🇰

ham aap hī ko apnā maqsūd jānte haiñ by Mir Taqi Mir — Analysis & Translation

Original Poem

ham aap hī ko apnā maqsūd jānte haiñ apne sivā.e kis ko maujūd jānte haiñ

Translation (Urdu)

ہم صرف آپ کو ہی اپنا مقصد سمجھتے ہیں اپنے علاوہ کسی اور کو موجود نہیں سمجھتے

About the Poet

Mir Taqi Mir (18th century)

میر تقی میر اردو کے مشہور شاعر ہیں جن کا تعلق اٹھارہویں صدی سے ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات اور فلسفہ کی گہرائی کو بیان کیا گیا ہے۔

Historical Context

Literary Form
Ghazal
When Written
18th century
Background
یہ شعر میر تقی میر کی غزل سے ہے، جو ان کی فلسفیانہ سوچ اور انسانی وجود کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ میر کی شاعری میں اکثر انسان کی داخلی کیفیت اور خود شناسی کا ذکر ملتا ہے۔

Sources: https://www.rekhta.org/ghazals/ham-aap-hii-ko-apnaa-maqsuud-jaante-hain-mir-taqi-mir-ghazals, https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_poetry

Detailed Explanation

یہ شعر میر تقی میر کی غزل سے ہے جس میں شاعر اپنی خود شناسی اور خودی کی بات کرتا ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ وہ خود کو ہی اپنا مقصد سمجھتا ہے، یعنی اس کی زندگی کا مقصد خود کی تلاش اور خود کی پہچان ہے۔ دوسرے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی اور کو موجود نہیں سمجھتا، یعنی اس کی نظر میں دنیا کی حقیقت اس کی اپنی ذات میں ہی ہے۔ یہ شعر انسان کی داخلی کیفیت اور خود شناسی کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔

Themes

  • خود شناسی
  • فلسفہ

Literary Devices

  • metaphor: خود کو مقصد جاننا
  • rhetorical question: اپنے سوا کس کو موجود جانتے ہیں

Word Dictionary

Word Meaning Translation Transliteration
maqsūd مقصد حاصل کرنے کی چیز maqsood
maujūd موجود حاضر maujood
sivā.e سوا علاوہ sivaa.e

Want to analyze your own poem?

Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.

Try Poetry Explainer — Free