Original Poem
ham aap hī ko apnā maqsūd jānte haiñ apne sivā.e kis ko maujūd jānte haiñ
Translation (Urdu)
ہم صرف آپ کو ہی اپنا مقصد سمجھتے ہیں
اپنے علاوہ کسی اور کو موجود نہیں سمجھتے
About the Poet
Mir Taqi Mir (18th century)
میر تقی میر اردو کے مشہور شاعر ہیں جن کا تعلق اٹھارہویں صدی سے ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات اور فلسفہ کی گہرائی کو بیان کیا گیا ہے۔
Historical Context
- Literary Form
- Ghazal
- When Written
- 18th century
- Background
- یہ شعر میر تقی میر کی غزل سے ہے، جو ان کی فلسفیانہ سوچ اور انسانی وجود کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ میر کی شاعری میں اکثر انسان کی داخلی کیفیت اور خود شناسی کا ذکر ملتا ہے۔
Sources: https://www.rekhta.org/ghazals/ham-aap-hii-ko-apnaa-maqsuud-jaante-hain-mir-taqi-mir-ghazals, https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_poetry
Detailed Explanation
یہ شعر میر تقی میر کی غزل سے ہے جس میں شاعر اپنی خود شناسی اور خودی کی بات کرتا ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ وہ خود کو ہی اپنا مقصد سمجھتا ہے، یعنی اس کی زندگی کا مقصد خود کی تلاش اور خود کی پہچان ہے۔ دوسرے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی اور کو موجود نہیں سمجھتا، یعنی اس کی نظر میں دنیا کی حقیقت اس کی اپنی ذات میں ہی ہے۔ یہ شعر انسان کی داخلی کیفیت اور خود شناسی کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| maqsūd | مقصد | حاصل کرنے کی چیز | maqsood |
| maujūd | موجود | حاضر | maujood |
| sivā.e | سوا | علاوہ | sivaa.e |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free