🇵🇰

تمہیں ہے اپنے ستم کا ملال ویسے ہیہمارے دوش پہ سر تھا وبال ویسے ہی by احمد فراز — Analysis & Translation

Original Poem

تمہیں ہے اپنے ستم کا ملال ویسے ہیہمارے دوش پہ سر تھا وبال ویسے ہی

Translation (Urdu)

تمہیں اپنے ظلم پر افسوس ہے جیسے ہمیشہ ہوتا ہے ہمارے کندھوں پر سر کا بوجھ تھا جیسے ہمیشہ ہوتا ہے

About the Poet

احمد فراز (20th century)

احمد فراز پاکستان کے مشہور شاعر تھے جنہوں نے اردو شاعری میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی شاعری میں محبت، غم اور سماجی مسائل کی عکاسی ہوتی ہے۔

Historical Context

Literary Form
غزل
When Written
20th century
Background
یہ غزل احمد فراز کی محبت اور غم کی شاعری کی نمائندگی کرتی ہے، جو ان کی زندگی کے تجربات اور جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔

Sources: https://www.rekhta.org/ghazals/tujhe-hai-mashq-e-sitam-kaa-malaal-vaise-hii-ahmad-faraz-ghazals?lang=ur, https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_poetry

Detailed Explanation

یہ اشعار احمد فراز کی ایک غزل سے ہیں جس میں شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ محبوب کو اپنے ظلم کا افسوس ہے، لیکن یہ افسوس بھی ویسا ہی ہے جیسے ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ دوسرے مصرعے میں شاعر اپنے کندھوں پر سر کا بوجھ محسوس کرتا ہے، جو کہ ایک استعارہ ہے ان کی زندگی کے مسائل اور مشکلات کے لئے۔ یہ اشعار محبت میں پیدا ہونے والے غم اور درد کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں محبوب کے رویے سے شاعر کو تکلیف پہنچتی ہے۔ احمد فراز کی شاعری میں یہ خاصیت ہے کہ وہ محبت کے جذبات کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں، اور ان کے الفاظ دل کو چھو لیتے ہیں۔

Themes

  • محبت
  • غم
  • ظلم

Literary Devices

  • استعارہ: 'دوش پہ سر تھا وبال' میں کندھے پر بوجھ کو زندگی کی مشکلات کا استعارہ بنایا گیا ہے۔
  • تکرار: 'ویسے ہی' کا استعمال دونوں مصرعوں میں کیا گیا ہے تاکہ ایک تسلسل اور تاثر پیدا ہو۔

Word Dictionary

Word Meaning Translation Transliteration
ستم ظلم کسی پر زیادتی کرنا sitam
ملال افسوس غم یا پچھتاوا malaal
دوش کندھا کندھا dosh
وبال بوجھ مشکل یا مصیبت wabaal

Want to analyze your own poem?

Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.

Try Poetry Explainer — Free