Original Poem
میرے گَل وچ دو زنجیراں نیں اک جَبَراں دیاں تے اک قَدَراں دیاں
Translation (Urdu)
میرے گلے میں دو زنجیریں ہیں
ایک زبردستی کی ہیں اور ایک قسمت کی ہیں
About the Poet
Unknown (Contemporary)
یہ نظم کسی معروف شاعر کی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عام پنجابی نظم ہے جو مختلف ویب سائٹس پر موجود ہے۔
Historical Context
- Literary Form
- Nazm
- When Written
- Unknown
- Background
- یہ نظم پنجابی زبان کی عام عوامی شاعری کی مثال ہے، جو معاشرتی اور ثقافتی موضوعات پر مبنی ہوتی ہے۔
Sources: https://www.facebook.com/ch.misri.chohan/videos/خس-خس-قدر-نہ-میرا-میرے-مرشد-نو-ونڈے-ائیاں-میں-گلیاں-دا-روڑا-کھوڑا-مینوں-مال-چڑھا/1341505793519628/, https://maajedsiddiqui.com/category/اصناف/ماجد-صدیقی-پنجابی-کلام/page/2/, https://en.wikipedia.org/wiki/Punjabi_literature
Detailed Explanation
یہ نظم انسانی زندگی میں موجود دو قسم کی پابندیوں کو بیان کرتی ہے۔ پہلی زنجیر 'جبر' کی ہے، جو انسان پر زبردستی عائد کی جاتی ہے، جیسے سماجی یا معاشرتی قوانین۔ دوسری زنجیر 'قدر' کی ہے، جو انسان کی اپنی تقدیر یا قسمت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ نظم اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کی زندگی میں دونوں قسم کی پابندیاں موجود ہوتی ہیں، جو اسے مختلف طریقوں سے متاثر کرتی ہیں۔ یہ ایک گہری فلسفیانہ سوچ کی عکاسی کرتی ہے جو انسانی زندگی کی پیچیدگیوں کو بیان کرتی ہے۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| میرے | میرا | میرا | mere |
| گَل | گلا | گلا | gal |
| وچ | میں | کے اندر | vich |
| دو | ۲ | دو عدد | do |
| زنجیراں | زنجیریں | پابندیاں | zanjiraan |
| نیں | ہیں | ہیں | nein |
| اک | ایک | ایک | ak |
| جَبَراں | جبر کی | زبردستی کی | jabraan |
| دیاں | کی | کی | diyaan |
| تے | اور | کے ساتھ | te |
| قَدَراں | قدر کی | قسمت کی | qadaraan |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free