Original Poem
سردیوں کی ایک شام مالک مکان نے ماسٹر الیاس کو بڑے سخت الفاظ میں ڈانٹا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے تین دن کے اندر اندر گذشتہ چھے ماہ کا کرایہ ایک ساتھ ادانہ کیا تو وہ اس کا سامان نکال کر باہر پھینک دے گا۔ ماسٹر جی کی خوف کے مارے بندھ گئی۔ کیوں کہ ان کے پاس ایک سواسی روپے یک مشت موجود نہیں تھے۔ صرف چالیس روپے تھے ، جن کے ساتھ دس کا ایک نوٹ اور پر ذکر انھوں نے پچاس بنا لیے تھے۔ پہلے تو مالک مکان بچیں، تیں، چالیس، پچاس لے کر آگے کی تاریخ دے دیا کرتا تھا۔ لیکن اس مرتبہ وہ ترنگ ہو گیا اور اس نے دھاگے میں پروئے ہوئے پچاس روپے اصیل مرغے کے آگے پھینک کر کہا جا اوئے ! میں نہیں لیتا۔ مجھے پورے ایک سواسی کر کے دے۔“
Translation (Urdu)
سردیوں کی ایک شام، مالک مکان نے ماسٹر الیاس کو سخت الفاظ میں ڈانٹا اور دھمکی دی کہ اگر تین دن میں چھے ماہ کا کرایہ ادا نہ کیا تو وہ سامان باہر پھینک دے گا۔
ماسٹر جی خوفزدہ ہو گئے کیونکہ ان کے پاس ایک سواسی روپے نہیں تھے۔
ان کے پاس صرف چالیس روپے تھے، جنہیں دس کا نوٹ شامل کر کے پچاس بنایا تھا۔
پہلے مالک مکان چالیس یا پچاس لے کر آگے کی تاریخ دے دیتا تھا۔
لیکن اس بار وہ ضد پر آ گیا اور پچاس روپے مرغے کے آگے پھینک کر کہا کہ پورے ایک سواسی دے۔
About the Poet
Unknown (Modern Urdu Literature)
یہ نظم کسی معروف شاعر کی نہیں ہے بلکہ یہ ایک افسانوی انداز میں لکھی گئی ہے۔ اردو ادب میں افسانوی طرز تحریر کا استعمال عام ہے جو کہ کہانیوں یا واقعات کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
Historical Context
- Literary Form
- Afsana (افسانہ)
- When Written
- Unknown
- Background
- یہ نظم ایک افسانوی کہانی کی شکل میں ہے جو کہ ایک کرایہ دار کی مشکل صورتحال کو بیان کرتی ہے۔ یہ اردو ادب کے افسانوی طرز کی ایک مثال ہے جو کہ معاشرتی مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔
Sources: http://zainshakeel.blogspot.com/p/ghazlen.html, https://wikisource.org/wiki/افسانۂ_عاشق_دلگیر, https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_literature
Detailed Explanation
یہ نظم ایک افسانوی کہانی کی شکل میں ہے جو کہ ایک کرایہ دار کی مشکل صورتحال کو بیان کرتی ہے۔ ماسٹر الیاس کو مالک مکان کی طرف سے کرایہ نہ دینے پر سختی سے ڈانٹا جاتا ہے اور انہیں تین دن کی مہلت دی جاتی ہے کہ وہ چھے ماہ کا کرایہ ادا کریں ورنہ ان کا سامان باہر پھینک دیا جائے گا۔ ماسٹر الیاس کے پاس پورے پیسے نہیں ہوتے اور وہ صرف چالیس روپے جمع کر پاتے ہیں۔ پہلے مالک مکان ان سے کم پیسے لے کر آگے کی تاریخ دے دیتا تھا لیکن اس بار وہ ضد پر آ جاتا ہے اور پچاس روپے واپس کر دیتا ہے۔ یہ کہانی معاشرتی مسائل اور کرایہ داروں کی مشکلات کو اجاگر کرتی ہے۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| ڈانٹا | سختی سے کہا | غصے میں بات کرنا | daanta |
| دھمکی | خوف دلانا | کسی کو ڈرا کر کچھ کرنے پر مجبور کرنا | dhamki |
| یک مشت | ایک ساتھ | ایک ہی بار میں | yak musht |
| ترنگ | ضد | ضد پر آنا | tarang |
| اصیل | اصل | خالص | aseel |
| مرغے | مرغا | ایک پرندہ | murghay |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free