Original Poem
حرارت جنگ و جدل اجاڑ دیتی ہے زندگیاں مرجھا جاتی ہیں کلیاں، تلملا جاتی ہیں سسکیاں نفسا نفسی کا ہر سو ہوتا ہے سماں خون کی نہریں ہوتی ہیں ہر دم گلیوں میں رواں آسماں میں ہوتی ہے گولا بارود کی بوچھاڑ سہمے ہوئے چہروں کی ہر سو ہوتی ہے قطار ہر فرد کے دل میں ہوتی ہے عجب سی دہشت و ہیبت برپا کہ نہ جانے اگلے لمحے ہوگا کس گھر میں سوگ کا سماں کفن میں لپٹے چہروں کی رمق قلب چیر دیتی ہے خون میں لتھڑے جسموں کی ہیئت سانسیں بکھیر دیتی ہے انسانی اقدار کی تضحیک جہاں بن جاتی ہے معمول درندوں کے کارواں ہوتے ہیں اسی سمت مبذول اجڑ جاتا ہے ہر پل زندگیوں کا شاخسانہ بچتا ہے تو محض رنج و الم کا تازیانہ ہوس مال و متاع بنا دیتا ہے انساں کو حیواں طاقت کا خمار کر دیتا ہے اسے ہر دم بیزار خلقتاں عوام الناس میں ہوتا ہے فاقہ کشی کا دور دوراں مگر محلوں میں مقیم دلالوں کا ہوتا ہے پانی بھی مشک عنبراں کسی کو ہوتا ہے اپنے پیاروں کے چھن جانے کا غم تو کسی کو ہوتا ہے اپنے دیاروں کے اجڑ جانے کا الم قارئین تو یہ مناظر پڑھ کر گزر جاتے ہیں مگر جن پر بیتتی ہے وہ بے چارے تو اجڑ جاتے ہیں وہ لوگ جن کی حیات کبھی رنگ برنگے خوابوں سے تعبیر تھی اب تیغ دشمنان سے بچنے کی جستجو ہی ان کا واحد دستور ہے وہی لوگ جو ہر پل مسکرایا کرتے تھے اب آنسوؤں کی آبشاروں میں نہایا کرتے ہیں وہی لوگ جو اکثر نغمے گنگنایا کرتے تھے اب زندانان دشمناں میں آنسو بہایا کرتے ہیں
Translation (Urdu)
جنگ کی گرمی زندگیاں برباد کر دیتی ہے
کلیاں سوکھ جاتی ہیں، آہیں بھرنے لگتی ہیں
ہر جگہ خود غرضی کا ماحول ہوتا ہے
گلیوں میں ہر وقت خون کی ندیاں بہتی ہیں
آسمان پر گولہ باری کی بارش ہوتی ہے
خوفزدہ چہروں کی ہر طرف قطار ہوتی ہے
ہر دل میں ایک عجیب سا خوف ہوتا ہے
کہ نہ جانے اگلے لمحے کس گھر میں ماتم ہوگا
کفن میں لپٹے چہروں کی چمک دل کو چیر دیتی ہے
خون میں لتھڑے جسموں کی حالت سانسیں بکھیر دیتی ہے
انسانی اقدار کی بے حرمتی عام ہو جاتی ہے
درندوں کے قافلے اسی طرف متوجہ ہوتے ہیں
ہر لمحہ زندگیوں کا انجام برباد ہو جاتا ہے
صرف غم و الم کا کوڑا باقی رہ جاتا ہے
مال و دولت کی ہوس انسان کو حیوان بنا دیتی ہے
طاقت کا نشہ اسے ہر وقت لوگوں سے بیزار کر دیتا ہے
لوگوں میں فاقہ کشی کا دور دورہ ہوتا ہے
لیکن محلوں میں رہنے والے دلالوں کا پانی بھی مشک عنبر ہوتا ہے
کسی کو اپنے پیاروں کے چھن جانے کا غم ہوتا ہے
تو کسی کو اپنے دیاروں کے برباد ہونے کا دکھ ہوتا ہے
قارئین یہ منظر پڑھ کر گزر جاتے ہیں
لیکن جن پر گزرتی ہے وہ بے چارے برباد ہو جاتے ہیں
وہ لوگ جن کی زندگی کبھی رنگ برنگے خوابوں سے تعبیر تھی
اب دشمنوں کی تلوار سے بچنے کی کوشش ہی ان کا واحد اصول ہے
وہی لوگ جو ہر وقت مسکراتے تھے
اب آنسوؤں کی آبشاروں میں نہاتے ہیں
وہی لوگ جو اکثر نغمے گنگناتے تھے
اب دشمنوں کی قید میں آنسو بہاتے ہیں
About the Poet
Unknown (Contemporary)
یہ نظم کسی خاص شاعر سے منسوب نہیں کی جا سکی۔ یہ ایک جدید دور کی نظم ہے جو جنگ و جدل کے اثرات کو بیان کرتی ہے۔
Historical Context
- Literary Form
- Nazm
- When Written
- Contemporary
- Background
- یہ نظم جنگ و جدل کے اثرات اور انسانی زندگی پر اس کے تباہ کن نتائج کو بیان کرتی ہے۔ یہ نظم انسانی اقدار کی تضحیک اور معاشرتی ناہمواریوں کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
Sources: https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_poetry, https://urdutimesusa.com/columns/11996/
Detailed Explanation
یہ نظم جنگ و جدل کے اثرات کو بیان کرتی ہے۔ نظم میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کی حرارت کیسے زندگیوں کو برباد کر دیتی ہے اور کلیاں مرجھا جاتی ہیں۔ ہر طرف خود غرضی کا ماحول ہوتا ہے اور خون کی ندیاں بہتی ہیں۔ آسمان پر گولہ باری کی بارش ہوتی ہے اور خوفزدہ چہروں کی قطاریں ہوتی ہیں۔ ہر دل میں خوف و دہشت ہوتا ہے کہ نہ جانے اگلے لمحے کس گھر میں ماتم ہوگا۔ کفن میں لپٹے چہروں کی چمک دل کو چیر دیتی ہے اور خون میں لتھڑے جسموں کی حالت سانسیں بکھیر دیتی ہے۔ انسانی اقدار کی بے حرمتی معمول بن جاتی ہے اور درندوں کے قافلے اسی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ہر لمحہ زندگیوں کا انجام برباد ہو جاتا ہے اور صرف غم و الم کا کوڑا باقی رہ جاتا ہے۔ مال و دولت کی ہوس انسان کو حیوان بنا دیتی ہے اور طاقت کا نشہ اسے ہر وقت لوگوں سے بیزار کر دیتا ہے۔ لوگوں میں فاقہ کشی کا دور دورہ ہوتا ہے لیکن محلوں میں رہنے والے دلالوں کا پانی بھی مشک عنبر ہوتا ہے۔ کسی کو اپنے پیاروں کے چھن جانے کا غم ہوتا ہے تو کسی کو اپنے دیاروں کے برباد ہونے کا دکھ ہوتا ہے۔ قارئین یہ منظر پڑھ کر گزر جاتے ہیں لیکن جن پر گزرتی ہے وہ بے چارے برباد ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگ جن کی زندگی کبھی رنگ برنگے خوابوں سے تعبیر تھی اب دشمنوں کی تلوار سے بچنے کی کوشش ہی ان کا واحد اصول ہے۔ وہی لوگ جو ہر وقت مسکراتے تھے اب آنسوؤں کی آبشاروں میں نہاتے ہیں۔ وہی لوگ جو اکثر نغمے گنگناتے تھے اب دشمنوں کی قید میں آنسو بہاتے ہیں۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| حرارت | گرمی | گرمی | haraarat |
| جدل | لڑائی | لڑائی | jadal |
| اجاڑ | برباد | ویران | ujaar |
| نفسا نفسی | خود غرضی | افراتفری | nafsaa nafsi |
| بوچھاڑ | بارش | تیز بارش | bochhaar |
| قطار | لائن | صف | qataar |
| دہشت | خوف | خوف | dehshat |
| ہیبت | رعب | خوف | haibat |
| کفن | لاش کا کپڑا | میت کو لپیٹنے کا کپڑا | kafan |
| رمق | چمک | روشنی | ramq |
| لتھڑے | لپٹے | لت پت | lathray |
| تضحیک | بے حرمتی | بے عزتی | tazheek |
| درندوں | وحشی | جانور | darindon |
| شاخسانہ | نتیجہ | انجام | shaakhsaana |
| ہوس | لالچ | حرص | havas |
| خمار | نشہ | سرور | khumaar |
| فاقہ کشی | بھوک | فاقہ | faqa kashi |
| مشک عنبراں | خوشبو | معطر | mushk anbaran |
| الم | دکھ | غم | alam |
| تیغ | تلوار | خنجر | tegh |
| آبشاروں | جھرنے | آبشار | aabshaaron |
| زندانان | قیدخانے | جیل | zindanaan |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free